پی ٹی آئی چیئرمین کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ _ _ اسلام آباد ہائی کورٹ کا سخت حکم _ صدیق جان کے انکشافات
تحریک انصاف کے چیرمین کی مشکلات بڑھ رہی ہے اس جھیل میں ہے ان کی درخواست نظر آرہی ہیں تو ہے کہ اس کو ختم کردیا جائے اور ساتھ ایک طرف چل رہا ہے وہ مل جائے اس کے علاوہ یہ کسی اور جیل میں منتقل کیا جائے جہاں ان کو 72 کلاس کے لحاظ سے اس بارے میں جانتے ہیں ایک جس سے کس طرح سے یہ معاملات آگے چلے گئے اور راولپنڈی میں کیا کہتے ہیں دیکھ اس وقت میں اپ کو ساری قانونی صورت حال بتا دیتا ہوں آج کے دن کی بورڈ کے چیئرمین پی ٹی آئی کے بعد آج پہلی مرتبہ ان کے کسی ساتھی ماہ اسلام آباد میں ایک درخواست دائر کی ہے
جس میں یہ کہا گیا کہ اٹک میں ان کی منتقلی ہے کہ جیل میں وہ غیر قانونی ہے اور اس فیصلے کو قتل کر کے اور گھر کے اور ان کو آج اتنی جلدی آؤ مجھے لے جائے کیونکہ جو ہے اس کی آس ہے وہ عربی کلاس ہے وہ ہیں اس سے کلاس ہے اور جو اس درخواست پر اعتراضات کے ساتھ اجازت کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت کیلئے مقرر کیا ہے اور اس کو ہٹایا اس میں تین وکلاء کو ملنے کی جاتی ہے جس نے بھی شرما گئی امیر نیازی صاحب اور نہیں ہوئی کیا گیا کہ اسلام آباد اور مقعد کو قانون کے مطابق درجات ملنی چاہیے وہ سزا دی جائے کہ یہ تو کوئی دوسرا آٹھ میں پھیل جائیں گی جو فیصلہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل کورٹ کا یہ قلم کیا ہے ان کو باعزت بری کیا جائے اس کے ساتھ ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس کا امیر ترین انسان تب تک یہ جرمن سینڈ کر دیں ان کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے تو یہ اپیل کی سماعت کر رہی ہے کہ اسلام آباد بورڈ آفس عمر فاروق صاحب اور جیسے ساری دنیا مانگیں اس بات کریں گے یہ دو معاملات ہوں گے تیسرا معامل سپریم کورٹ آف پاکستان میں جو انہوں نے اسلام آباد ایئر فیصل آباد جس میں انہوں نے دوبارہ جائزہ لینے کے علاوہ تمام حضرات اور ان کو چیلنج کیا تھا اس لیے وہ پاکستان میں آج اس کو بھی نمبر لگ گیا ہے یہ ہے کہ میں تحریک انصاف کے خلاف مجھے پیار ہوئی تھی کوئٹہ میں عبدالقادر پٹیل سے ان کے ہواس کے اس کیس میں ان کی کل پیشی ہے ان کو ڈھونڈ کر رکھا ہے لیکن اب تو کہ وہ زیر حراست ہے پابند سلاسل ہے تو وہ آپ کو تو نہیں آ سکتا ہے
تو دیکھو ڈائریکشن دے گی تو پھر آئے گا پاکستان پر کل فون کا نہیں آئے وہ آج جمعرات رات کے لئے آتا ہے کے لئے آتا ہے کہ وہ تھا اگر کل ہائیکورٹ تو آپ ہیں آپ تو وہ ترقی اور کرپشن پہ ہنس کر دیں تو پھر نے جو ان کی گرفتاری اس میں ڈال سکتی ہے اور آپ نے قانون کے مطابق 30 دن کا جسمانی ریمانڈ ہے یہ چیزیں ہوں گی قانون معاملہ آپ گل ہائی کورٹ میں یہ ایک خاص نہیں ہے جس میں اردو اور یہ دنیا والے سے پہلے سے ملنے والے سے اجنبی لگے زندگی میں ملنے کے لیے جانا چاہتی ہے لیکن اسلام ایک آج بھی ہم سب کو ہدایت دیں گے باقی جو کانٹا وہ کریں گے اور تعلیمی اپیل کی سماعت ہے میرے دل پہ لگتا یہ نوٹس لے لونگا پھر وہ آگے چلے گئے دیکھتے ہیں کتنے دن بعد اس واقعے کے بعد لکھی جاتی ہے پانچ سال بعد لکھی جاتی ہے جو اس بات کی جاتی ہے یہ دیکھنا ہوگا اور پھر اسی طرح کی سے پانچ مقدمات جو جناب اور أن میں ان کی ایک دن کی حاصری معافی کی درخواست ہے وہ نہیں ہے آپ سحری کے لئے ہے اور اگر وہ اسے بھی ان کی ہوم پروڈکشن پر یہ درخواست ضمانت کی میرپور اسٹیو ہر سو جاتی ہیں کہ ان کی تمام ان کی سرزمین میں یا ان کے دوران برطانیہ سے آزادی
حاصل کرنا چاہتی پر اسٹیشن 5 امن کیلئے تیار ہوجائیں پیغمبر اعظم کے خاندان کا ایک خاکہ لکھنے کے دوسرے میں جو سن لے کے دے میں یہ سارا معاملہ چلتا رہے گا تو یہ ان کے لئے اس وقت تو نماز بھی اس صورت حال ہے اور ساتھ ہی ایک بڑی منڈی ہے کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی بنائیں اور اپنے کاغذات بات کی ہے جس کے مطابق یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی ہیں وہ تاحیات صدر بن جائیں گے اور ساتھ ہی انہوں نے قانون سازی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے آج بھی ہے اور چھوٹی سی سی آئی نے جو نیت کی تھی اس نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

0 Comments