نگراں کابینہ |  نگراں کسان نے حلفلیا !  ) حلف اٹھانا |  نذیر لغاری کا تجزیہ


Caretaker Cabinet |  The caretaker farmer swore!  ) to take an oath  Analysis by Nazir Leghari


نگراں وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے حلف لیا اور آپ دیکھ لے تو تقریب براہ راست ایوان صدر سے جس میں نگراں وزیراعظم انور لاحق  کاکڑ بھی موجود تھے اب اس نے وفاقی کابینہ جس نے حلف اٹھا لیا ہے اب خواجہ طور پر یاد کرتے ہیں برداری کی تقریب جو ہے وہ ہوگئی ہے باقی کابینہ جو کہ وہ قطعی طور پر بتایا گیا 

کہ اٹھارہ رکنی وفاقی کابینہ ہے اس میں کی مون نے خصوصی بھی شامل ہے ان اہم ویزرتوں  کے حوالے سے نام سامنے آئے آپ دیکھ رہے ہیں کہ نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے ایوان صدر میں ہونے والی تقریب جس میں کچھ معاون خصوصی بھی شامل  ہیں جو اس میں شامل ہوں گے ابھی آپ براہ راست مناظر دیکھے ہیں ہمارے صدار سے یہ تقریب آج منعقد کی گئی نگراں وفاقی کابینہ کی حلف برداری کے حوالے سے جس نے دستخط کیے جا رہے ہیں

 کہ خلق کے اوپر اور صدر ڈاکٹر عارف علوی کا جنہوں نے قرآن پاک کی کابینہ سے حلف لیا اب دستخط کیے جا رہے ہیں آپ نے وزیر اعظم انور لاحق کو بھی دیکھ سکتے ہیں صاحب آج اٹھارہ  رکنی نگراں وفاقی کابینہ نے حلف لے لیا اور اہم  نام سامنے آئے ہیں آپ کیا کہتے ہیں ایک اچھی  توازن اور اعتدال اور بلکہ بڑی حد تک ایک غیر جانبدار ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ مفکر الیکشنوں اور پاکستان کی صورتحال کو بہتر کرنے پر ہو رہی ہے

 کہ ان لوگوں کی ہدایت پر عمل کرکے ہمیں رہنا چاہیے  اور اسی طرح سرفراز بگٹی جب ہوا بلوچستان کی کابینہ میں وزیر داخلہ کے وقت بھی ان کا کردار بہت اہم تھا اور اس کے بعد چلانے نے مختلف حیثیتوں میں کام کیا  اور امریکہ میں بھی آپ پاکستان کے سفیر رہے اور وہ ایک طرف بہت ہے بے حرمت والے ہیں اور ہمیں اس سے اچھی کارکردگی کی توقع رکھنی چاہیے پاکستان آج اتنے مسائل کا شکار ہے یہ ضرور کے پی ایل میں ہوگا اور کابینہ کے دن کبھی فرش پر کبھی ان میں ہوگا کہ کیا ہم پاکستان کے  صدر کو درست کر سکتے ہیں یہ بہت بڑی بات ہے اور نہ  نگراں وازیر اعطم پر بوچا نہیں  ڈالتے جائیں گے

 وہی والا کام کریں گے لیکن یہ کوئی اچھی بھاری بھرکم کابینہ ہے اور ہمیں چایئے کی توقع رکھنی چاہیے بہتری کی طرف لے جائیں گے اور یہ امید کرنی چاہیے کہ یہ لوگ اپنے ٹارگٹ کے مطابق الیکشن کروانے کے ساتھ ساتھ دیگر جو ملک کے روزمرہ کے مسائل بھی حل کرنے کی کوشش کریں گے انہیں ان لوگوں کو بہت زیادہ  یہ توقع ہے